Saturday, January 19, 2013

ان ایک ہزار جعلی حدیثوں کو چھلنی میں چھانیں گے

0 comments


ان ایک ہزار جعلی حدیثوں کو چھلنی میں چھانیں گے لیکن وحی کے بغیر یہ ہو نہیں سکتا۔

ان ایک ہزار جعلی حدیثوں کو چھلنی میں چھانیں گے لیکن وحی قرآن کے بغیر یہ ہو نہیں سکتا۔

خلفائے بنوعباس کے مشہورومعروف خلیفہ ہارون الرشید کے پاس ایک جعلی حدیثوں کے بنانے کا مجرم زندیق پیش کیا گیا ۔ مجرم نے کہا : ا میرالمؤمنین ! میرے قتل کا حکم آپ کس وجہ سے دے رہے ہیں ؟ ہارون رشید نے کہا : کہ اللہ کے بندوں کو تیرے فتنوں سے محفوظ کرنے کیلئے ۔ اس پر زندیق نے کہا: میرے قتل سے آپ کو کیافائدہ ہوگا ۔کیونکہ
این انت من الف حدیث وضعتہا علی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کلہا مافیہا حرف نطق بہ ۔(تاریخ دمشق لا بن عساکر،٢ /٢٥٤)
ان ایک ہزار حدیثوں کو کیا کریں گے جنکو میں بناکر لوگوں میں پیش کرچکا ہوں جب کہ ان میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس کی نسبت حضور کی طرف درست ہو ۔
اسکا مطلب یہ تھا کہ ایک ہزار حدیثیں وضع کرکے لوگوں میں انکی تشہیر کرچکا ہوں ، تومجھے قتل بھی کردوگے توکیا ہوگا ، میرابویاہوا بیج تو حدیثوں کی شکل میں مسلمانوں میں موجود
رہے گا جس سے وہ گمراہ ہوتے رہیں گے ۔ خلیفہ ہارون رشید نے اس مردود سے کہاتھا ۔
این انت یاعدواللہ من ابی اسحاق الفزاری ، وعبداللہ بن المبارک ینخلانھا فیخرجانھا حرفاحرفا۔(تاریخ دمشق لا بن عساکر،٢ /٢٥٤)
اے دشمن خدا !تو کس خیال میں ہے ، امام ابو اسحاق فزاری ،امام عبداللہ بن مبارک ان تمام حدیثوں کو چھلنی میں چھانیں گے اور تیری تمام جعلی حدیثوں کو نکال کر پھینک دینگے ۔


پیدائش آدم سے متعلق حدیثوں کی بتائی ہوئی تاریخ

0 comments

پیدائش آدم سے متعلق حدیثوں کی بتائی ہوئی تاریخ

عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خلق اللہ آدم وطولہ ستون ذراعاثم قال اذہب فسلم علی اولائک من الملائکۃ فاستمع ما یحیونک تحیتک وتحیۃ ذریتک فقال السلام علیکم فقالواالسلام علیک ورحمۃ اللہ فزاد وہ رحمۃ اللہ فکل من دخل الجنۃ علی صورۃ آدم فلم یزل الخلق ینقص حتی ا آا ن ۔
 حدیث 553باب نمبر302کتاب الانبیاء بخاری ۔
وہ آیت جس کے خلاف یہ حدیث گھڑی گئی ہے ۔
فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا
ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ
خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا۔
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا
ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (30:30)
تو تم ایک طرف کے ہوکر دین (خدا کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

خلاصہ :
 اللہ نے جب آدم کو پیدا فرمایا تو اس کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔( جو دو سو فٹ کے قریب بنتا ہے) پھر آدم کو فرمایا کہ جاؤ ملائکہ کو سلام کرو اور سنو کہ وہ جواب میں تجھے کونسا تحفہ دیتے ہیں۔ تو آدم نے ان کو السلام علیکم کہا تو جواب میں ملائکہ نے وعلیک السلام کے بعد ورحمۃ اللہ کا اضافہ کیا۔ اور جو بھی شخص جنت میں جائے گا وہ آدم کی صورت پر ہوگا اور ہمیشہ سے لوگ آج تک قد میں چھوٹے ہوتے آرہے ہیں۔ 

تنقید و تبصرہ  : جناب قارئین!
 اللہ نے سورۃ روم میں فرمایا کہ :
 فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا
یعنی میرا انداز تخلیق جس پر لوگ پیدا ہوتے آرہے ہیں وہ ایسی تویکسانیت والاہے کہ :
 لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ
 اس انداز تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
 تو قد کے لحاظ سے مروج دور میں علاقہ جات اور آب و ہوا کے حساب سے لوگوں کے قد و کاٹھ میں جو تناسب اور توازن ہے ہمیشہ سے وہ اس طرح کا اور اتنا چلتا ہوا آرہا ہے اور آئندہ بھی اسی طرح رہے گا ۔اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔
یہ آدم کے ساٹھ ہاتھ کے قد کا ناپ بخاری اور اس کے استاداماموں کا جھوٹ ہے ۔
دلیل آپ ابھی ابھی سورۃ روم کے حوالہ سے پڑھ چکے ہیں۔
 رہا یہ کہ پھر یہ جھوٹ اماموں نے کیوں گھڑا ہے ؟
 سو ان کو تو کیا بتائیں ان اماموں کو قرآن کی ہر بات کی مخالفت کرنی ہی کرنی ہے اس لئے یہ لوگ کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
 ان کے کہنے سے تو پھر اب تک ، اس دور کے انسانوں کے قد چوہوں سے بھی چھوٹے ہونے چاہییں تھے ۔
اور حدیث بنانے والوں نے یہ بتایا کہ جنت میں جانے والوں کی صورت آدم کی سی ہوگی تو ساتھ ان اماموں کو باقی قد کا بھی بتانا تھا کہ وہ آخری زمانے والے تو کیڑوں مکوڑوں سے بھی چھوٹے ہونے چاہییں؟
 قرآن دشمن لوگوں کو شرم بھی نہیں آتی اور آئے بھی کیوں؟
 ہوئے جو قرآن دشمن۔

از قلم : عزیزاللہ بوھیو
Azizullah Bohio

 ہر آدمی کہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ حضرت آدم کی صورت پر ہوگا اور اس کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا ۔

43 - انبیاء علیہم السلام کا بیان : (585)
فرمان الٰہی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں دنیا میں (اپنا) ایک خلیفہ بنانے والا ہوں کا بیان ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا لما علیھا حافظ یعنی مگر اس کا حفاظت کرنے والا ہے فی کبد کے معنی سخت پیدائش ریاشا کے معنی مال دوسرے لوگوں نے کہا ہے ریاش اور ریش ایک ہی ہیں یعنی ظاہری لباس ماتمنون کے معنی ہیں کہ تم منی عورتوں کے رحم میں ڈالتے ہو اور مجاہد نے کہا کہ آیت کریمہ بے شک وہ اس کے واپس کر دینے پر قادر ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ نطفہ کو پھر احلیل ذکر میں واپس کر دے جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہے وہ جفت ہے آسمان بھی جفت ہے اور یکتا تو اللہ تعالیٰ ہے فی احسن تقویم کے معنی ہیں عمدہ پیدائش میں اسفل سافلین سے مومن مستثنیٰ ہے خسرو کے معنی گمراہی پھر اس سے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مستثنیٰ کیا لازب کے معنی چپکنے والی ننشئکم یعنی جس صورت میں ہم چاہیں پیدا کر دیں نسبح بحمدک یعنی تیری عظمت بیان کرتے ہیں ابوالعالیہ نے کہا کہ فتلقی آدم من ربہ کلمات میں کلمات سے مراد ربنا ظلمنا انفسنا ہے فازلھما کے معنی ہیں کہ انہیں بہکا دیا یتسنہ کے معنی خراب ہو جاتا ہے اسن کے معنی متغیر مسنون کے معنی بھی متغیر حماء حماۃ کی جمع ہے سڑی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں یخصفان یعنی جنت کے پتوں کو جوڑنے لگے یعنی ایک پتہ کو دوسرے پتہ پر جوڑنے لگے سواتھما یعنی ان کی شرمگاہیں متاع الی حین یہاں حین سے مراد قیامت کے دن تک ہے اہل عرب کے نزدیک حین کے معنی ایک ساعت سے لے کر لا تعداد وقت کے آتے ہیں قبیلہ کے معنی اس کی وہ جماعت جس سے وہ خود ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن همام عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلی الله عليه وسلم قال خلق الله آدم وطوله ستون ذراعا ثم قال اذهب فسلم علی أولئک من الملائکة فاستمع ما يحيونک تحيتک وتحية ذريتک فقال السلام عليکم فقالوا السلام عليک ورحمة الله فزادوه ورحمة الله فکل من يدخل الجنة علی صورة آدم فلم يزل الخلق ينقص حتی الآن
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 563      حدیث قدسی           مکررات 3 متفق علیہ 3 بدون مکرر
  عبداللہ بن محمد عبدالرزاق معمر ہمام حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان (کے قد) کی لمبائی ساٹھ گز تھی پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جاؤ اور فرشتوں کو سلام کرو اور جو کچھ وہ جواب دیں اسے غور سے سنو! وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا حضرت آدم نے فرشتوں کے پاس جا کر کہا السلام علیکم انہوں نے کہا السلام علیک ورحمۃ اللہ انہوں نے لفظ و رحمۃ اللہ زیادہ کیا پس جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا (آدم علیہ السلام ساٹھ گز کے تھے لیکن اب تک مسلسل آدمیوں کا قد کم ہوتا رہا) ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet said, "Allah created Adam, making him 60 cubits tall. When He created him, He said to him, "Go and greet that group of angels, and listen to their reply, for it will be your greeting (salutation) and the greeting (salutations of your offspring." So, Adam said (to the angels), As-Salamu Alaikum (i.e. Peace be upon you). The angels said, "As-salamu Alaika wa Rahmatu-l-lahi" (i.e. Peace and Allah's Mercy be upon you). Thus the angels added to Adam's salutation the expression, 'Wa Rahmatu-l-lahi,' Any person who will enter Paradise will resemble Adam (in appearance and figure). People have been decreasing in stature since Adam's creation.

59 - اجازت لینے کا بیان : (73)
سلام کی ابتداء کا بیان
حدثنا يحيی بن جعفر حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن همام عن أبي هريرة عن النبي صلی الله عليه وسلم قال خلق الله آدم علی صورته طوله ستون ذراعا فلما خلقه قال اذهب فسلم علی أولئک النفر من الملائکة جلوس فاستمع ما يحيونک فإنها تحيتک وتحية ذريتک فقال السلام عليکم فقالوا السلام عليک ورحمة الله فزادوه ورحمة الله فکل من يدخل الجنة علی صورة آدم فلم يزل الخلق ينقص بعد حتی الآن
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1166              حدیث قدسی           مکررات 3 متفق علیہ 3 بدون مکرر
 یحیی بن جعفر عبدالرزاق معمر ہمام حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی اپنی صورت میں پیدا کیا ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی جب اللہ نے ان کو پیدا کیا تو کہا کہ جاؤ اور ملائکہ کی اس جماعت کو جو بیٹھی ہے سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا چنانچہ انہوں نے کہا السلام علیکم فرشتوں نے کہا السلام علیکم و رحمۃ اللہ ان فرشتوں نے لفظ رحمۃ اللہ زیادہ کیا ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا اس وقت سے اب تک آدمیوں کے قد میں کمی ہو رہی ہے۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet said, "Allah created Adam in his complete shape and form (directly), sixty cubits (about 30 meters) in height. When He created him, He said (to him), "Go and greet that group of angels sitting there, and listen what they will say in reply to you, for that will be your greeting and the greeting of your offspring." Adam (went and) said, 'As-Salamu alaikum (Peace be upon you).' They replied, 'AsSalamu-'Alaika wa Rahmatullah (Peace and Allah's Mercy be on you) So they increased 'Wa Rahmatullah' The Prophet added 'So whoever will enter Paradise, will be of the shape and form of Adam. Since then the creation of Adam's (offspring) (i.e. stature of human beings is being diminished continuously) to the present time."

54 - جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت کا بیان : (105)
جنت میں کچھ ایسی قوموں کے داخل ہونے کے بیان میں کہ جن کے دل پرندوں کی طرح ہوں گے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَی صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَی أُولَئِکَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنْ الْمَلَائِکَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَکَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُکَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِکَ قَالَ فَذَهَبَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَکُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَی صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلْ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدَهُ حَتَّی الْآنَ
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2663                حدیث مرفوع          مکررات 3 متفق علیہ 3 بدون مکرر
 محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل نے حضرت آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا پھر جب اللہ عزوجل حضرت آدم کو پیدا فرما چکا تو فرمایا جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو اور وہاں بہت سے فرشتے بیٹھے ہیں پھر تم سننا کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہ فرشتے تمہیں جو جواب دیں گے وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا آپ نے فرمایا حضرت آدم گئے اور فرمایا السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فرشتوں نے جواب میں کہا السَّلَامُ عَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ آپ نے فرمایا فرشتوں نے جواب میں وَرَحْمَةُ اللَّهِ کا اضافہ کردیا تو ہر آدمی کہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ حضرت آدم کی صورت پر ہوگا اور اس کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا پھر حضرت آدم کے بعد جتنے لوگ بھی پیدا ہوئے ان کے قد چھوٹے ہوتے رہے یہاں تک کہ یہ زمانہ آگیا۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, created Adam in His own image with His length of sixty cubits, and as He created him He told him to greet that group, and that was a party of angels sitting there, and listen to the response that they give him, for it would form his greeting and that of his offspring. He then went away and said: Peace be upon you! They (the angels) said: May there be peace upon you and the Mercy of Allah, and they made an addition of" Mercy of Allah". So he who would get into Paradise would get in the form of Adarn, his length being sixty cubits, then the people who followed him continued to diminish in size up to this day.

54 - جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت کا بیان : (105)
اس بات کے بیان میں کہ جنت میں سب سے پہلا جو گروہ داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَی أَشَدِّ کَوْکَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَائِ إِضَائَةً لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْکُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمْ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَی خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَی صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَائِ
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2649                حدیث مرفوع          مکررات 11 متفق علیہ 9 
 قتیبہ بن سعید، عبدالواحد ابن زیاد عمارہ بن قعقاع ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی اور اس گروہ کے بعد جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے ان کی صورتیں انتہائی چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح ہوں گی وہ نہ پیشاب کریں گے اور نہ پاخانہ اور نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک ہوگا اور ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگ رہا ہوگا اور ان کی بیویاں بڑی آنکھوں والی ہوں گی اور ان سب کے اخلاق ایک جیسے ہوں گے اور وہ سب اپنے باپ آدم کی صورت پر ہوں گے اور ان کا قد آسمان میں ساٹھ ہاتھ کا ہوگا۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: The (members of the) first group which would get into Paradise will have their faces as bright as stars in the sky. They would neither pass water, nor void excrement, nor will they suffer from catarrh, nor will they spit, and their combs would be made of gold, and their sweat will be musk, the fuel of their brazier will be aloes, and their wives will be large-eyed maidens and their form would be alike as one single person after the form of their father (Adam) sixty cubits tall.

54 - جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت کا بیان : (105)
اس بات کے بیان میں کہ جنت میں سب سے پہلا جو گروہ داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَی أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَائِ إِضَائَةً ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِکَ مَنَازِلُ لَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْکُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَی خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَی طُولِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَلَی خُلُقِ رَجُلٍ و قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ عَلَی خَلْقِ رَجُلٍ و قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَلَی صُورَةِ أَبِيهِمْ
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2650                حدیث مرفوع          مکررات 11 متفق علیہ 9 
 ابوبکر بن ابی شبیہ ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا میری امت میں سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی پھر جو گروہ ان کے بعد جنت میں داخل ہوگا ان کی صورتیں انتہائی چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح ہوں گی پھر ان کے بعد درجہ بدرجہ مراتب ہوں گے وہ نہ پاخانہ کریں گے اور نہ پیشاب کریں گے اور نہ ناک صاف کریں گے اور نہ تھوکیں گے اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کی انگیٹیھوں میں عود سلگ رہا ہوگا اور ان کا پسینہ مشک ہوگا ان سب کے اخلاق ایک جیسے ہوں گے وہ اپنے قد میں اپنے باپ حضرت آدم کی طرح ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The first group of my Ummah to get into Paradise would be like a full moon in the night. Then those who would be next to them; they would be like the most significantly glittering stars in regard to brightness, then after them (others) in ranks. They would neither void excrement, nor pass water, nor suffer from catarrh, nor would they spit. And their combs would be made of gold, and the fuel of their braziers would be aloes and their sweat would be musk and their form would be the form of one single person according to the length of their father sixty cubits tall.This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Shaiba with a slight variation of wording.

38 - زہد کا بیان : (243)
جنت کا بیان ۔
حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا محمد بن فضيل عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم أول زمرة تدخل الجنة علی صورة القمر ليلة البدر ثم الذين يلونهم علی ضو أشد کوکب دري في السما إضاة لا يبولون ولا يتغوطون ولا يمتخطون ولا يتفلون أمشاطهم الذهب ورشحهم المسک ومجامرهم الألوة أزواجهم الحور العين أخلاقهم علی خلق رجل واحد علی صورة أبيهم آدم ستون ذراعا حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة مثل حديث ابن فضيل عن عمارة
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1214           حدیث مرفوع          مکررات 11
 ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل عمارہ بن قعقاع، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اول جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگی۔ پھر ان سے قریب ایک بہت روشن تارے کی طرح آسمان میں نہ وہ پیشاب کریں گے نہ پائخانہ نہ ناک سنکیں گے نہ تھوکیں گے۔ انکی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور انکا پسینہ مشک کا ہوگا اور انکی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی یعنی عود ان میں جل رہا ہوگا بیویاں بڑی آنکھوں والی حوریں ہونگی سارے جنتیوں کی عادتیں ایک شخص کی عادتوں کے مثل ہونگی اور سب اپنے باپ آدم کی صورت پر ہوں گے ساٹھ ہاتھ کے لمبے۔ ترجمہ بعینہ گزر چکا ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah P.B.U.H said: "The first group to enter Paradise will enter. with (faces)like the moon in the night when it is full. Then those who follow them will be shining with a light brighter than the brightest star in the sky. They will not urinate or defecate, or blow their noses or spit. Their combs will be of gold, their sweat will be musk, their braziers* will be pearls and their wives will be houris. Their form will be that of a single man, the form of their father Adam, sixty forearm's length tall.''' (Sahih)  *Brazier: Receptacle for holding live coals for burning incense. Another narration with similar meaning. (Sahih)

’’ ساٹھ ہاتھ کے حضرت آدم کے گھوڑے اور خچر  کا  قد ‘‘

وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (8:60)
اور جہاں تک ہوسکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لیے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔ اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان نہیں کیا جائے گا (8:60)
Against them make ready your strength to the utmost of your power, including steeds of war, to strike terror into (the hearts of) the enemies, of Allah and your enemies, and others besides, whom ye may not know, but whom Allah doth know. Whatever ye shall spend in the cause of Allah, shall be repaid unto you, and ye shall not be treated unjustly. (8:60)
وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8)
اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں (16:8)
And (He has created) horses, mules, and donkeys, for you to ride and use for show; and He has created (other) things of which ye have no knowledge. (16:8)

’’ ساٹھ ہاتھ کے حضرت آدم کے مَثَلَ حضرت عیسیٰ کا  قد‘‘

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (3:59)
عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہو جا تو وہ (انسان) ہو گئے (3:59)
The similitude of Jesus before Allah is as that of Adam; He created him from dust, then said to him: "Be". And he was. (3:59)

امام بخاری کی فقہ کے مطابق تقیہ جائز ہے۔

0 comments

کوئی سی آیات کے  ٹکڑے جوڑ  کر اپنی مرضی کے مفہوم کی آیت بنا ئیں، جیسا  کہ امام بخاری نے باب الاکراہ میں  کیا !!!
إن الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم قالوا فيم كنتم قالوا كنا مستضعفين في الأرض‏ ‏ إلى قوله ‏  واجعل لنا من لدنك نصيرا






Join Any Verses to Make a Third Verse of Your Interest
امام بخاری کی فقہ کے مطابق تقیہ جائز ہے۔

یہ بات تو ہم علماء حدیث کے حوالہ سے کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ فقہ البخاری فی تر۱جمہ ٖیعنی امام بخاری کا فقہی موقف ، نظریہ اور مسلک اس کی کتاب کے عنوانات میں ہے۔ تو امام بخاری صاحب نے اپنے مجموعہ احادیث بنام الصحیح البخاری کے اندر ایک کتاب بنام کتاب الاکراھ قائم کیا ہے ۔جس کا پہلاہی باب ایک لمبے چوڑے عنوان سے لکھا ہے جو ساے کا سارا تقیہ کے ثبوت اور جواز کے لئے لکھا ہے اور دلیل کے لئے قرآن حکیم کے ایسے دلائل لایا ہے جو ان پر
 نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ
کا قرآنی جملہ بالکل سچا اور پورا اترتا ہے ۔

محترم قارئین  !
امام بخاری اس ترجمۃ الباب کے شروع میں سورۃ نحل کی آیت نمبر106لایا ہے کہ :
 مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (16:106)
جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔
یعنی جس شخص نے بھی اللہ کے احکامات کا ایمان لانے کے بعد کھلے دل سے کفر کیا انکار کیا تو یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غضب اور دردناک عذاب ہوگا ۔ ہاں وہ لوگ اس حکم اور سزا کے مواخذہ میں نہیں آئیں گے جن کے دل ایمان باللہ پر مطمئن ہوں اور ان سے جبرو اکراہ سے کوئی خلاف شرع کام لیا جائے ۔ایسے لوگوں کو کوئی سزا نہیں ہوگی ۔

محترم قارئین!
 امام بخاری نے اس آیت کو نقل تو کیا ہے لیکن بغیر تبصرہ کے جلد ی آگے آل عمران کی آیت 28کے درمیان کا جملہ
 إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً
لکھ کر فوراً لکھتا ہے کہ یہی تقیہ ہے یہی جملہ تقیہ کے لئے ثبوت اور دلیل ہے ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ خوف اور ڈر کی حالت میں تمہارے لئے ناجائز چیز( جھوٹ وغیرہ) جائز کردی جاتی ہے۔
لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ
ۖ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ (3:28)
مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو (تو مضائقہ نہیں) اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے۔
 اس لئے مناسب اور ضروری سمجھتا ہوں کہ میں یہاں پوری آیت نقل کرکے اس کا مفہوم عرض کروں پھر فیصلہ قارئین خود کریں کہ کیا قرآن حکیم جھوٹ بولنے کی اجازت دیتا ہے؟ جس طرح امام بخاری اور اس کے ہمنواؤں نے مشہور کیا ہے ۔پوری آیت ملا حظہ ہو:
لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ
ۖ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ (3:28)
یعنی مومنوں کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی رکھیں ۔اگر کوئی ایسا کرے گا تو پھروہ مکافات کے لئے تیار ہوجائے ۔ایسے لوگوں کے لئے اللہ کا ذمہ ختم ہو جا تا ہے۔اگر تم کفار سے ڈرتے ہو اور تمہیں ان کی طرف سے بڑا کوئی خطرہ ہے جان اور مال کے ضائع ہو جانے تک تو بھی یادرکھوکہ
وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ
ۗ
 یعنی اللہ تمہیں اپنے قوانین کی خلاف ورزی سے ڈراتا ہے ۔
 وہ اس لئے بھی کہ
 وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ
یعنی مآل کار ، بالآخرانجام تو یہ ہے کہ پھر پھرا کر اللہ کی طرف لوٹنا ہے تو پھر خوف کی حالت میں بھی سچ بولنا ہو گا۔ اور اللہ کے قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت کسی بھی حالت میں نہیں ملے گی۔
 میں نے عرض کیاہے کہ اس سے پہلی آیت  (16:106) پر بھی امام بخاری صاحب نے صرف نقل پر اکتفا کیا اور تبصرہ نہیں کیا ۔ اس لئے کہ اس آیت میں صاف صاف ہے ۔
إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ
مجبور اور  اکراہ  کئے ہوئے لوگوں کا اپنا کوئی عمل  و  ارادہ  غیر شرعی چیز کے لئے ثابت نہیں ہے ۔
 اس لئے ان سے کوئی مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔
 جب کہ ڈر کے مارے جھوٹ بولنے ،کہنے والے کا اپنا قول اور عمل موجود ہے۔اس لئے تو آیت کے آخر میں اللہ نے فرمایا کہ مجھ سے ڈر و آخر کار تو میرے دربار میں تمہیں حاضر ہونا ہے ۔جن کا آخری عدالت پر کوئی کنٹرول نہیں ان سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔
 
 جنا ب قارئین!
 آگے ترجمۃ الباب کی عبارت میں امام بخاری صاحب نے تقیہ کے ثبوت اور جواز کے لئے ایک ایسی خیانت اور بیہودہ جسارت کی ہے کہ فیصلہ کس سے کرائیں یعنی ثبوت تقیہ کے لئے قرآن کی آیت 97سورۃ نساء سے لکھتے ہیں :
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَآٰءِکَۃ’‘ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوا فِیْمَ کُنْتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ  الی قولہٖ  وَجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا ۔
 محترمین !
 اس آیت کے نقل کرتے وقت امام بخاری صاحب نے آدھی آیت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ آگے اتنے تک پڑھتے رہو جتنے تک جملہ وَجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا  (4:75)
 
 محترم قارئین!
 یہ جملہ آگے ختم قرآن تک نہیں ہے ۔ دیکھئے کہ امام بخاری پڑھنے والوں کو کتنا دھوکہ دے رہاہے۔ یہ جملہ تو پیچھے اسی سورۃ کی آیت نمبر75کا حصہ ہے جب کہ یہ آیت 97نمبر ہے تو پھر کیا اسے امام بخاری کی حواس باختگی کہا جائے گا، یا قرآن سے لا علمی اور جہالت پن کہا جائے گا ،یا تراویح پڑھانے والوں حافظوں کی طرح متشابہات میں بہک جانا کہا جائے گا،یا پڑھنے والوں کو بیوقوف بنانے کی فنکاری کہاجا ئے گا۔
إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (4:97)
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا (4:75)
اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما۔
 محترم قا رئین !
 اصل بات یہ ہے کہ اس آیت 97 کا اگلا بقیہ حصہ
َالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (4:97)
ہے۔
 پوری آیت جس کامفہوم اور خلاصہ ہے کہ ملائکہ جب ان لوگوں کو جنہیں انہوں نے وفات دی ہوگی پوچھیں گے کہ تم کس حال میں تھے تو وہ لوگ جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہم زمین پر کمزور بنائے گئے تھے۔
 ( بخاری صرف یہاں تک نقل کرکے پھرلکھتا ہے کہ آگے  وَجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا  تک )
 جبکہ آگے آیت ہے کہ کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں جو تم اس میں بذریعہ ہجرت پھیل جاتے ۔ سو ان لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بہت برا مرجع ہے ۔

محترم قارئین!
 بخاری صاحب نے جب دیکھا کہ آیت کا یہ پچھلا حصہ تو تقیہ کرنے پر جہنم میں پہچانے کی بات کرتا ہے تو اس نے اپنی امامت کا ہنر دکھاتے ہوئے ایسے جملے کی طرف اشارہ کیا جو آگے پڑھنے سے اخیر قرآن تک نہ مل سکے ۔

ملاحظہ فر ما یا قارئین!
قرآن کسی بھی پھنے خان کی ٹامک ٹوئیا ں چلنے نہیں دیتا۔ اس آیت سے امام بخاری کے تقیہ کے لئے استدلال نے اسکی بددیانتی کو طشت ازبام کردیا جو کسی بھی تھوڑی سی پاسداری والے کو زخم چاٹنے کے لئے کافی ہے ۔آگے امام بخاری صاحب اپنے ترجمہ الباب میں لکھتے ہیں کہ وقال الحسن التقیہ الی یوم القیامہ یعنی حسن بصری نے فرمایا کہ تقیہ یعنی خوف کے مارے جھوٹ کہنا یہ قیامت تک جاری رہے گا۔

عزیز بھا ئیوں !
حسن بصری صاحب امام بخاری صاحب کے بھی پیشوا اور سلف صالحین میں سے ہیں۔ وہ امام بخاری کے بھی بڑے میاں ہیں۔ محترم حسن بصری صاحب قدس سرہ ٹیم کے صف اول کے پیشوا ہیں۔ وہ تصوف کے بانیوں میں سے ہیں۔ سو ان کا سارا اثاثہ تو تقیہ یعنی جھوٹ بولنے سے معرض وجود میں آیا ہے۔ سو ان لوگوں نے قرآن کے غلط حوالوں سے اللہ پر جو بہتان باندھا ہے کہ تقیہ قرآن سے ثابت ہے ۔ان کے لئے قرآن فرماتا ہے کہ :
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (10:69)
کہہ دو جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔
یعنی اے نبی اعلان کردے کہ جولوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں گے ان کی کبھی فلاح نہیں ہوگی۔سو سارے اہل ایمان سے اللہ نے فرمایا کہ :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (9:119)
اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو۔
 یعنی اے ایمان والوخوف اور ڈر صرف اللہ کا رکھو اور ہمیشہ سچ بولنے والوں کا ساتھ دیا کرو دوسرے مقام پر فرمایا کہ :
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (33:70)
مومنو خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو۔
یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو بات کرو وہ سیدھی اور صاف ستھری ہونی چاہیے، پکی اور پختہ ہونی چاہئیے جس میں تقیہ کا ذرا بھی شائبہ نہیں ہونا چاہیے ۔
 آخر میں امام بخاری اپنے ترجمۃ الباب میں اپنی شروع کتاب والی حدیث کو مختلف حوالوں اور مختصر عبارت سے لایا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ الاعمال بالنیتہ ، یعنی عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔میں اس حدیث کے غلط ،جھوٹ، جعلی، من گھڑت ہونے پر اسی کتاب کے حصہ اول میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔
 اس کے باوجود یہاں کچھ مزید دلائل قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔اوراس سے پہلے جملہ’’ الاعمال بالنیتہ‘‘ یعنی اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ اس میں جھول کی نشان دہی یہ ہے کہ علم مناظرہ میں ایک اصطلاح زیادہ استعمال ہوتی ہے وہ یہ کہ کلمہ حق اریدبہ الباطل یعنی بات تو صحیح اور سچی کہی گئی ہے لیکن اس سے باطل مفہوم کا ارادہ کیا گیا ہے۔ بخاری کی اس حدیث میں بھی جان بوجھ کر یہ مشہور کیا گیا ہے کہ اعمال نیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ تو اس میں ان کے اندر کا چور یہ ہے کہ یہ لوگ اگر کوئی برا عمل کریں تو یہ کہہ کر جان چھڑائیں کہ عمل تو ایسا ہو گیا لیکن میری نیت اس طرح کی نہیں تھی یاان کا کوئی مخالف اچھا کام بھی کرے تاہم مخالف کے متعلق یہ کہہ کر کردار کشی کریں کہ ٹھیک ہے کام تو اچھا ہوا لیکن یہ لوگ نیت کے اچھے نہیں ہیں یعنی نیت کی تلوار سے ان کی من مانی چلتی رہے۔ اس لئے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ایک سو سے زائد بار عمل کے ساتھ صالح کو ملا کر بیان کیا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ عمل کرنے والا سوچ سمجھ کر عمل کرے کہیں بدکرداری پر یہ نہ کہے کہ میری نیت میں ایسا ویسا نہ تھا انجانے میں غلطی ہوگئی۔ انجانے میں غلطی پر قرآن نے حکم دیا ہے کہ نیت کی آڑ میں جان چھڑانے والوں کو بتایا جائے کہ :
 وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ
ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (6:54)
اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
 یعنی جو بھی شخص تم میں سے بے خبری میں برائی کر بیٹھے تو اس پر لازم ہے کہ اس غلطی کے ازالہ کے لئے غلط پوآئنٹ پر واپس لوٹ آئے پھر سیدھی نتیجہ خیز صالح لائن پر چلے تو پھر رحم کرنے والا مالک اسے بچائے گا۔

محترم قارئین!
 قرآن کے نظریہ پر غور کریں کہ کتنا تو مضبوط ہے کہ نیت کی بہانہ بازی سے جان چھڑانے والوں کو کتنا تو جانتا ہے ۔پس حدیث الاعمال بالنیات اس لئے بھی جھوٹی ہے کہ اللہ نے قرآن میں جب عمل کے ساتھ نیت کی کہیں بھی شرط نہیں لگائی ہے تو رسول اللہ ایسی بات کیونکر فرمائیں گے جو قرآن میں نہ ہو ۔ اور جب قرآن میں ہر جگہ اللہ نے عمل کے ساتھ صالح کی شرط لگائی ہے تو رسول اللہ نے وہ قرآن والی عمل کی صفت اور شرط کیو ں بیان نہیں فرمائی؟ تیسری دلیل یہ بھی ہے کہ اعمال بالنیات میں تقیہ بازی والے جھوٹ بولنے کی مشق کی گنجائش نکل آتی ہے اور قرآن کی آئیڈیالوجی کے مطابق اٰمنوا وعملواالصا لحات سے تقیہ کے لئے کوئی چارہ نہیں کھلتا جبکہ نیت کی آڑ میں جھوٹ بولنے کے کئی مواقع مل جاتے ہیں ۔وہ اس طرح کہ کسی کے کا م کا ا گر کوئی غلط نتیجہ نکل آیا تو اس عمل والا آدمی یہ کہہ کر جان چھڑا نے کی تدبیر کرسکتا ہے کہ جی میری نیت تو صحیح تھی وغیرہ وغیرہ۔

از قلم : عزیزاللہ بوھیو
Azizullah Bohio